Sacrifice, Compulsion or Continuous Charity? The sharia aspect of kidney donation...

Sacrifice, Compulsion or Continuous Charity? The sharia aspect of kidney donation...
قربانی،مجبوری یا صدقۂ جاریہ؟ گردہ عطیہ کا شرعی پہلو...

اسلام میں انسانی جان کو نہایت مقدس سمجھا جاتا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک امانت ہے جس کی حفاظت اور بقا ضروری ہے۔ قرآنِ کریم اس اصول کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے کہ جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔ یہ آیت اُن تمام اعمال کی بنیاد بنتی ہے جو کسی جان کو بچانے یا اس کی زندگی کو بہتر بنانے کا سبب بنتے ہیں، جن میں اعضاء کی پیوند کاری (Organ Transplant) بھی شامل ہے۔ جب یہ عمل درست اخلاقی اصولوں کے تحت کیا جائے تو گردہ عطیہ کرنا اور اس کی پیوند کاری موجودہ دور کے اکثر علماء اور بڑے فتوٰی اداروں—جیسے فقہ کونسل آف نارتھ امریکہ، دارالافتاء مصر، اور انٹرنیشنل اسلامک فقہ اکیڈمی، دارالعلوم دیوبند—کے نزدیک جائز بلکہ نہایت اجر و ثواب کا باعث صدقہ ہے۔

علماء عموماً اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ زندہ شخص کی طرف سے گردہ عطیہ کرنا اس وقت جائز ہے جب وصول کرنے والے( Recipient )کو واقعی ضرورت ہو، اس کا کوئی بہتر متبادل موجود نہ ہو، اور عطیہ مکمل رضامندی کے ساتھ کیا جائے۔ یہ عمل عطیہ دینے والے کو(Doner) شدید نقصان نہ پہنچائے، اس میں کسی قسم کی خرید و فروخت یا جبر شامل نہ ہو، انسانی وقار برقرار رکھا جائے، اور فائدہ واضح طور پر ممکنہ نقصان سے زیادہ ہو۔ “نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ” کا اصول ہر معاملے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

اگر ایسی صورت ہو کہ طبی ماہرین عطیہ دینے والے کو بڑے جراحی مسائل سے خبردار کریں—مثلاً گردہ پسلی کے ساتھ جڑا ہوا ہو اور آپریشن میں پسلی نکالنی پڑے—یا یہ امکان ہو کہ باقی بچنے والا گردہ بعد میں صحیح کام نہ کرے اور اسے ڈائیلاسز اور طبی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے، تو یہ عطیہ نقصان کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ تو اکثر علماء آگے بڑھنے سے منع کرتے ہیں۔ اسلام کسی کو یہ لازم نہیں کرتا کہ وہ خود کو خطرے میں ڈالے۔

جب دباؤ یا جبر شامل ہو جائے تو جواز مزید متاثر ہو جاتا ہے۔ اگر شوہر اپنی بیوی کو گردہ نہ دینے کی صورت میں طلاق کی دھمکی دے یا بڑی رقم—مثلاً پچیس لاکھ روپے—کی پیشکش کرے تو عطیہ اپنی اصل صفت یعنی آزادانہ رضامندی کھو دیتا ہے۔ خاندان ٹوٹنے کے خوف کے ذریعے جذباتی دباؤ حقیقی رضامندی کو ختم کر دیتا ہے، جبکہ مالی ترغیب انسانی اعضاء کی خرید و فروخت کے ممنوع دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔ یہ عمل انسانی وقار کے خلاف اور صریحاً ناجائز ہے۔
جب مریض انتہائی نازک حالت میں ہو تو صورت حال مزید سنگین ہو جاتی ہے۔ اگر ڈاکٹر یہ بتائیں کہ مریض محض ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا ہے، دل صرف بیس فیصد کام کر رہا ہے، دل، پھیپھڑوں اور پیٹ کے اردگرد پانی جمع ہے جو متعدد اعضاء کے ناکارہ ہونے کی علامت ہے، اور عطیہ کیا جانے والا گردہ بھی مکمل طور پر میچ نہیں کرتا جس کے لیے طاقتور مدافعتی ادویات درکار ہوں گی، تو خطرات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ قوی امکان ہوتا ہے کہ مریض آپریشن برداشت نہ کر سکے یا چند دنوں، ہفتوں یا مہینوں میں انتقال کر جائے۔ جب کامیابی کے حقیقی امکانات کم ہوں اور اس عمل سے باوقار زندگی واپس آنے کے بجائے تکلیف میں اضافہ ہو تو اسلامی اصول کے مطابق فائدہ نقصان پر غالب نہیں رہتا۔

ان تمام حالات—عطیہ دینے والے کے لیے طبی خطرہ، جبر یا مالی دباؤ، اور انتہائی کمزور مریض جس کے لیے کامیابی کے امکانات نہایت کم ہوں—کو سامنے رکھتے ہوئے اکثر علماء اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اس خاص صورت میں گردہ کی پیوند کاری جائز نہیں، اسلام جان بچانے کو بہت اہمیت دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی غیر ضروری نقصان، جبر، جسم کی تجارت اور بے فائدہ علاج سے بھی روکتا ہے۔

ایسی مشکل صورتحال میں اگر پیوند کاری ممکن نہ ہو تو شفقت پر مبنی تسکینی نگہداشت، دعا، صبر اور آخری مراحل میں مریض کے آرام اور وقار کا خیال رکھنا اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔

آخرکار انسانی جان کی حرمت کا تقاضا ہے کہ ایسے فیصلے سوچ سمجھ کر اور اصولوں کے مطابق کیے جائیں، تاکہ زندگی بچانے کی کوشش بھی ہو اور نقصان سے بچاؤ بھی۔ اللہ تعالیٰ جہاں شفا بہتر ہو وہاں شفا عطا فرمائے، آزمائش میں مبتلا لوگوں کو صبر و طاقت دے، اور ہر حال میں اپنی رضا کے مطابق فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

- ڈاکٹر ریاض الدین دیشمکھ،
ریٹائرڈ اسسٹنٹ کمشنر اف پولیس، اورنگ اباد

Dr. Riazuddin Deshmukh,
Retired Assistant Commissioner of Police, Aurangabad
8888836498